قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ)

حکم : حسن صحيح

ترجمة الباب:

954 .   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: آگے سے گزرنے والے کوممکن حد تک روکنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

954.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ سترہ ( سامنے رکھ کر اس) کی طرف نماز پڑھے اور اس سے قریب ہو کر کھڑا ہو اور کسی کو سامنے سے گزرنے نہ دے۔ اگر کوئی گزرنے لگے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔‘‘