قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابٌ ادْرَأْ مَا اسْتَطَعْتَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

955.   حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، وَالْحَسَنُ بْنُ دَاوُدَ الْمُنْكَدِرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي، فَلَا يَدَعْ أَحَدًا، يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنْ مَعَهُ الْقَرِينَ» وَقَالَ الْمُنْكَدِرِيُّ، فَإِنَّ مَعَهُ الْعُزَّى

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: آگے سے گزرنے والے کوممکن حد تک روکنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

955.   حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ کسی کو اپنے سامنے سے نہ گزرنے دے۔ اگر وہ (گزرنے والا پیچھے ہٹنے سے) انکار کرے تو اس سے لڑائی کرے، کیوں کہ اس کے ساتھ ایک ساتھی (شیطان) ہے۔‘‘ منکدری نے کہا: اس کے ساتھ عُزَّی ہے۔