قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ إِقَامَةِ الصُّفُوفِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

992 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟» قَالَ، قُلْنَا: وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهَا؟ قَالَ: «يُتِمُّونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَيَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: صفیں سیدھی کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

992.   حضرت جابر بن سمرہ سوائی ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام سے) فرمایا: ’’تم اس طرح صفیں کیوں نہیں بناتے جس طرح فرشتے اپنے رب کے حضور صفیں بناتے ہیں؟‘‘ راوی کہتے ہیں، ہم نے عرض کیا: فرشتے اپنے رب کے حضور کس طرح صف بندی کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘