قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ البُيُوعِ (بَابٌ: البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا)

تمہید کتاب عربی

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَبِهِ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَشُرَيْحٌ، وَالشَّعْبِيُّ، وَطَاوُسٌ، وَعَطَاءٌ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ علامہ شوکانی فرماتے ہیں : و من الادلۃ الدالۃ علی ارادۃ التفرق بالابدان قولہ فی حدیث ابن عمر المذکور ما لم یتفرقا و کانا جمیعا و کذلک قولہ و ان تفرقا بعدان تبایعا و لم یترک واحد منہما البیع فقد وجب فان فیہ البیان الواضح ان التفرق بالبدن قال الخطابی و علی ہذا وجدنا امر الناس فی عرف اللغۃ و ظاہر الکلام فاذا قیل تفرق الناس کان المفہوم منہ التمیز بالابدان قال و لو کان المراد تفرق الاقوال کما یقول اہل الرائی لخلا الحدیث من الفائدۃ و سقط معناہ الخ ( نیل الاوطار )

2110. حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا

مترجم:

ترجمۃ الباب:

( کہ بیع قائم رکھیں یا توڑ دیں ) اور عبداللہ بن عمر ؓ شریح، شعبی، طاؤس، عطاءاور ابن ابی ملیکہ سب نے یہی کہا ہے۔ تشریح : ان سب نے یہی کہا ہے کہ صر ف ایجاب و قبول یعنی عقد سے بیع لازم نہیں ہوجاتی اور جب تک بائع اور مشتری مجلس عقد سے جدا نہ ہوں دونوں کو اختیار رہتا ہے کہ بیع فسخ کرڈالیں۔ سعید بن مسیب، زہری، ابن ابی ذئب، حسن بصری، اوزاعی، ابن جریج، شافعی، مالک، احمد، اور اکثر علماءیہی کہتے ہیں۔ ابن حزم نے کہا کہ تابعین میں سے سوائے ابراہیم نخعی کے اور کوئی اس کا مخالف نہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ  نے صرف امام نخعی کا قول اختیار کرکے جمہور علماءکی مخالفت کی ہے۔ اور عبداللہ بن عمر ؓ کا قول امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے نکالا جو اوپر نافع سے گزرا کہ ابن عمر ؓ جب کوئی چیز ایسی خریدتے جو ان کو پسند ہوتی، تو بائع سے جدا ہوجاتے۔ ترمذی نے روایت کیا بیٹھے ہوتے تو کھڑے ہو جاتے یعنی ابن ابی شیبہ نے روایت کیا وہاں سے چل دیتے تاکہ بیع لازم ہو جائے۔ اور شریح کے قول کو سعید بن منصور نے اور شعبی کے قول کو ابن ابی شیبہ نے اور طاؤس کے قوال امام شافعی نے ام میں اور عطاءاور ابن ابی ملیکہ کے اقوال کو ابن ابی شیبہ نے وصل کیا ہے۔ علامہ شوکانی مرحوم کی تقریر کا مطلب یہ ہے کہ ہر دو خریدنے و بیچنے والے کی جسمانی جدائی پر دلیل حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میں یہ قول نبوی ہے : ”مالم یتفرقا و کان جمیعا“ یعنی ہر دو کو اس وقت تک اختیار باقی رہتا ہے کہ وہ دونوں جدا نہ ہوں بلکہ ہر دو اکٹھے رہیں۔ اس وقت تک ان کو سودے کے بارے میں پورا اختیار حاصل ہے اور اسی طرح دوسرا ارشاد نبوی اس مقصد پر دلیل ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ ہر دو فریق بیع کے بعد جدا ہو جائیں۔ اور معاملہ بیع کو کسی نے فسخ نہ کیا ہو اور وہ جدا ہو گئے۔ پس بیع واجب ہو گئی، یہ دلائل واضح ہیں کہ جدائی سے جسمانی جدائی مرا دہے۔ خطابی نے کہا کہ لغوی طور پر بھی لوگوں کا معاملہ ہم نے اسی طرح پایا ہے اور ظاہر کلام میں جدائی سے لوگوں کی جسمانی جدائی ہی مراد ہوتی ہے۔ اگر اہل رائے کی طرح محض باتوں کی جدائی مراد ہو تو حدیث مذکور اپنے حقیقی فائدے سے خالی ہو جاتی ہے بلکہ حدیث کا کوئی معنی باقی ہی نہیں رہ سکتا۔ لہذا خلاصہ یہ کہ صحیح مسلک میں ہر دو طرف سے جسمانی جدائی ہی مراد ہے یہی مسلک جمہور کا ہے۔ حضرت حکیم بن حزام ؓ جن سے حدیث باب مروی ہے جلیل القدر صحابی ہیں، کنیت ابوخالد قریشی اسدی ہے، یہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓکے بھتیجے ہیں۔ واقعہ فیل سے تیرہ سال قبل کعبہ میں پیدا ہوئے۔ یہ قریش کے سرداروں میں سے تھے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعدہر دو زمانوں میں بڑی عزت پائی۔ فتح مکہ میں اسلام لائے۔ ساٹھ سال جاہلیت میں گزارے۔ پھر ساٹھ ہی سال اسلام میں عمر پائی۔ 54ھ میں مدینہ المنورہ میں اپنے مکان ہی میں وفات پائی۔ بہت متقی، پرہیز گار اور سخی تھے۔ زمانہ جاہلیت میں سو غلام آزاد کئے اور سو اونٹ سواری کے لیے بخشے۔ فن حدیث میں ایک جماعت ان کی شاگر دہے۔

2110. حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "بیچنےاور خریدنے والے(دونوں)کو اختیار ہے جب تک جدانہ ہوئے ہوں۔ اگر وہ سچ کہیں اور صاف صاف بیان کریں تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوگی۔ اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت جاتی رہے گی۔ "