2 صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ سُجُودٍ التِّلَاوَةِ)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

577. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ حُجْرٍ - قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ: لَا، قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ، «وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ»...

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

(باب: سجدہ تلاوت کا بیان)

577.

عطاء بن یسار نے (اپنے شاگرد ابن قسیط کو) بتایا کہ انھوں نے امام کے ساتھ (قرآن کی کسی سورت کی) قراءت کرنے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا؟ انھوں نے کہا: امام کے ساتھ (فاتحہ کے سوا) کچھ نہ پڑھے اور کہا: انھوں (زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ﴿وَالنَّجْمِ اِذَا ھَویٰ﴾ پڑھی تو آپﷺ نے سجدہ نہ کیا۔

...

4 جامع الترمذي: أَبْوَابُ السَّفَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِﷺ (بَابُ مَا جَاءَ مَنْ لَمْ يَسْجُدْ فِيهِ​)

صحیح

576. حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَتَأَوَّلَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ إِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ لِأَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حِينَ قَرَأَ فَلَمْ يَسْجُدْ لَمْ يَسْجُدْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا السَّجْدَةُ وَاجِبَةٌ عَ...

جامع ترمذی: کتاب: سفر کے احکام ومسائل (باب: جولوگ سورۃ نجم میں سجدے کے قائل نہیں​)

576.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورہ نجم پڑھی مگر آپ نے سجدہ نہیں کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- زید بن ثابت ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سجدہ اس لیے نہیں کیا کہ زید بن ثابت ؓ نے جس وقت یہ سورہ پڑھی تو خود انہوں نے بھی سجدہ نہیں کیا، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے بھی سجدہ نہیں کیا۔ وہ کہتے ہیں: یہ سجدہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو اسے سنے، ان لوگوں نے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آدمی اگر اسے سنے اور وہ بلا وضو ہو تو جب وضو کر لے سجدہ کرے۔ اور یہی سفی...

5 سنن النسائي: كِتَابُ الِافْتِتَاحِ (بَابُ تَرْكِ السُّجُودِ فِي النَّجْمِ)

صحیح

960. أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ لَا قِرَاءَةَ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ وَزَعَمَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى فَلَمْ يَسْجُدْ...

سنن نسائی: کتاب: نماز کے ابتدائی احکام و مسائل (باب: سورۂ نجم میں سجدہ نہ کرنے کا بیان)

960.

حضرت عطاء بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ می نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے امام کے ساتھ قراءت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: کسی چیز میں امام کے ساتھ قراءت نہیں۔ اور فرمایا: میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ پر (وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى) ”قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہو جائے۔“ تلاوت کی تو آپ نے سجدہ نہیں کیا۔

...