1 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ العِلْمِ (بَابُ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالعِلْمِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

60. حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ عَارِمُ بْنُ الفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا فَأَدْرَكَنَا - وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلاَةُ - وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا....

صحیح بخاری:

کتاب: علم کے بیان میں

(باب:اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لئے اپنی آو...)

60.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک سفر میں نبیﷺ  ہم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ پھر آپ ہمیں اس حالت میں ملے کہ ہم سے نماز میں دیر ہو گئی تھی اور ہم (جلدی جلدی) وضو کر رہے تھے۔ ہم اپنے پاؤں (خوب دھونے کی بجائے ان) پر مسح کی...

2 ‌صحيح البخاري: كِتَابُ الوُضُوءِ (بَابُ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ، وَلاَ يَمْسَحُ عَلَى ا...)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

163. حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تَخَلَّفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنَّا فِي سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقْنَا العَصْرَ، فَجَعَلْنَا نَتَوَضَّأُ وَنَمْسَحُ عَلَى أَرْجُلِنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ» مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا...

صحیح بخاری:

کتاب: وضو کے بیان میں

(باب: دونوں پاؤں دھونا چاہیئے اور قدموں پر مسح نہ ...)

163.

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ ایک سفر میں ہم سے پیچھے رہ گئے، پھر آپ نے ہم کو پا لیا جبکہ عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا۔ ہم وضو کرنے لگے اور جلدی جلدی پاؤں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ آپ نے دو یا تین مرتبہ بلند آواز سے پکار کر کہا: ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔‘‘

...

3 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

241. وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

(باب: (وضو میں ) دونوں پاؤں مکمل طور پر دھونا واجب ...)

241.

جریر نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابو یحییٰ  (مصدع، الاعرج) سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی، کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے، راستے میں جب ہم ایک پانی (والی منزل) پر پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی، وضو کیا تو جلدی میں تھے، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طر ح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ( آکر) فرمایا: ’’(ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو اچھی طرح کیا کرو!۔‘‘

...

4 صحيح مسلم: كِتَابُ الطَّهَارَةِ (بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الرِّجْلَيْنِ بِكَمَالِهِمَا)

أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

241. وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَجَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَاءٍ بِالطَّرِيقِ تَعَجَّلَ قَوْمٌ عِنْدَ الْعَصْرِ، فَتَوَضَّئُوا وَهُمْ عِجَالٌ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ وَأَعْقَابُهُمْ تَلُوحُ لَمْ يَمَسَّهَا الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ»....

صحیح مسلم:

کتاب: پاکی کا بیان

(باب: (وضو میں ) دونوں پاؤں مکمل طور پر دھونا واجب ...)

241.

جریر نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابو یحییٰ  (مصدع، الاعرج) سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کی، کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے، راستے میں جب ہم ایک پانی (والی منزل) پر پہنچے، تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی، وضو کیا تو جلدی میں تھے، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طر ح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ( آکر) فرمایا: ’’(ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے، وضو اچھی طرح کیا کرو!۔‘‘

...

6 سنن النسائي: کِتِابُ صِفَةِ الْوُضُوءِ (بَابُ إِيجَابِ غَسْلُ الرِّجْلَيْنِ)

صحیح

111. أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ فَرَأَى أَعْقَابَهُمْ تَلُوحُ فَقَالَ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ...

سنن نسائی: کتاب: وضو کا طریقہ (باب: پاؤں کو دھونا واجب ہے)

111.

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو وضو کرتے دیکھا۔ آپ نے دیکھا کہ ان کی ایڑیاں خشک ہیں تو آپ نے فرمایا: ’’ان ایڑیوں کے لیے آگ کی تباہی ہے، وضو اچھی طرح کیا کرو۔‘‘