قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ فِي الِاسْتِعْفَافِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1644.   حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفَدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أَعْطَى اللَّهُ أَحَدًا مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنْ الصَّبْرِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: سوال سے بچنے کی فضیلت

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1644.   سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہانصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے ان کو عنایت فرمایا۔ انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ ﷺ نے اور دیا حتیٰ کہ جو کچھ آپ ﷺ کے پاس تھا، جب سب ختم ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جو مال بھی ہو گا وہ میں تم وہ میں تم سے ہرگز بچا کر نہیں رکھوں گا۔ اور جو سوال سے بچے گا اللہ اسے بچائے گا، جو غنا اختیار کرے گا اللہ اس کو غنی بنا دے گا۔ اور جو کوئی صبر کرے گا، اللہ اسے صابر بنا دے گا۔ اور صبر سے بڑھ کر کوئی ایسی نعمت وسیع نہیں ہے جو اللہ نے کسی کو دی ہو۔“