قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الطَّوَافِ الْوَاجِبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1882.   حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: طواف واجب کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1882.   ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میری طبیعت خراب ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔“ کہتی ہیں: چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھا رہے تھے اور آپ ﷺ «والطورِ وكتابٍ مسطورٍ» کی قراءت فرما رہے تھے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ میری طبیعت خراب ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”سواری پر بیٹھ کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لو۔“ کہتی ہیں: چنانچہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھا رہے تھے اور آپ ﷺ «والطورِ وكتابٍ مسطورٍ» کی قراءت فرما رہے تھے۔