قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الصَّلَاةِ بِجَمْعٍ)

حکم : صحيح خ دون قوله لم يناد وهو الصواب

ترجمۃ الباب:

1928.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الْمَعْنَى أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ ابْنِ حَنْبَلٍ عَنْ حَمَّادٍ وَمَعْنَاهُ قَالَ بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ لِكُلِّ صَلَاةٍ وَلَمْ يُنَادِ فِي الْأُولَى وَلَمْ يُسَبِّحْ عَلَى إِثْرِ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا قَالَ مَخْلَدٌ لَمْ يُنَادِ فِي وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا

سنن ابو داؤد:

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: مزدلفہ میں نماز کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

1928.   عثمان بن عمر ؓ نے ابن ابی ذئب سے انہوں نے زہری سے یعنی امام احمد بن حنبل عن حماد کی سند سے اور اس کے ہم معنی بیان کیا کہ ہر نماز کے لیے ایک اقامت کہی۔ اور پہلی میں اذان نہیں دی اور نہ کسی کے بعد سنتیں پڑھیں۔ مخلد نے کہا: ان میں سے ایک کے لیے اذان نہیں دی۔