قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ (بَابٌ فِي كَرَاهِيَةِ الِاقْتِرَاضِ فِي آخَرِ الزَّمَانِ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

2959.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ ثُمَّ قَالَ إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رِشًا فَدَعُوهُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابو داؤد:

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: زمانہ آخر میں بادشاہوں سے کچھ لینا مکروہ ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

2959.   سلیم بن مطیر نے اپنے والد سے بیان کیا اور یہ وادی القریٰ کا رہنے والا تھا۔ اس کے والد نے کہا: میں نے ایک صاحب سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجتہ الوداع میں سنا، آپ ﷺ نے لوگوں کو کچھ احکام بیان کیے اور کچھ سے منع فرمایا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے کہا: ہاں، اے اللہ! (ہم گواہ ہیں) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب اہل قریش آپس میں حکومت کے لیے جھگڑنے لگیں اور عطیے رشوت بن جائیں تو پھر انہیں چھوڑ دینا۔“ پوچھا گیا کہ یہ بیان کرنے والا کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ذوالزوائد ؓ ہیں۔