موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی
سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ (بَابٌ فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ الْأَمْوَالِ)
حکم : صحیح
2969. حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... أَخْبَرَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: وَفَاطِمَةُ -عَلَيْهَا السَّلَام- حِينَئِذٍ تَطْلُبُ صَدَقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ، وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّهُ عَنْهَا: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: >لَا نُورَثُ, مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، وَإِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ فِي هَذَا الْمَالِ -يَعْنِي: مَالَ اللَّهِ -لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَزِيدُوا عَلَى الْمَأْكَلِ
سنن ابو داؤد:
کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب: وہ خاص اموال جو رسول اللہ ﷺ اپنے لیے مخصوص کر لیا کرتے تھے
)مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)
2969. عروہ بن زبیر نے خبر دی کہزوجہ نبی کریم ﷺ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ نے انہیں یہ حدیث بیان کی۔ اس روایت میں عروہ کہتے ہیں کہ ان دنوں (رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد) سیدہ فاطمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اس صدقے کا مطالبہ کیا، جو آپ ﷺ مدینہ، فدک اور خیبر کے خمس کا بقیہ چھوڑ گئے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوبکر ؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان تھا: ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد ﷺ اسی مال میں سے کھائیں گے۔‘‘ یعنی اللہ کے مال میں سے اور انہیں حق نہیں کہ کھانے پینے کے اخراجات سے زیادہ لیں۔