قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ (بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3315.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهَا... نَحْوَهُ، مُخْتَصَرٌ مِنْهُ شَيْءٌ قَالَ: هَلْ بِهَا وَثَنٌ؟ أَوْ عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِ الْجَاهِلِيَّةِ؟، قَالَ: لَا،قُلْتُ: إِنَّ أُمِّي هَذِهِ عَلَيْهَا نَذْرٌ وَمَشْيٌ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ -وَرُبَّمَا قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ: أَنَقْضِيهِ عَنْهَا؟ -قَالَ: نَعَمْ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: نذر پوری کرنے کا حکم

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3315.   جناب عمرو بن شعیب نے سیدہ میمونہ بنت کردم‬ ؓ س‬ے، اس نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا لیکن قدرے اختصار کے ساتھ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا وہاں کوئی بت تھا یا جاہلیت کا میلہ تھا؟“ کہا: کچھ بھی نہیں۔ میں نے کہا: میری اس والدہ کے ذمے نذر ہے اور پیدل چلنا۔ کیا میں اسے اس کی طرف سے قضاء ادا کروں؟ (اور بالفاط ابن بشار) کیا ہم اس کی طرف سے قضاء ادا کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“