قسم الحديث (القائل): موقوف اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابٌ فِي السُّمْنَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3903.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَرَادَتْ أُمِّي أَنْ تُسَمِّنَنِي لِدُخُولِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَقْبَلْ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ مِمَّا تُرِيدُ حَتَّى أَطْعَمَتْنِي الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ كَأَحْسَنِ السَّمْنِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: علاج کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: کسی نحیف کو موٹا کرنے کی تدبیر

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

3903.   ام المؤمنین سیدہ عائشہ‬ ؓ ب‬یان کرتی ہیں کہ میری والدہ نے چاہا کہ میں قدرے موٹی ہو جاؤں تاکہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے گھر بھیجا جا سکے۔ مگر مجھے ان کی حسب منشا کسی چیز سے فائدہ نہ ہوا حتیٰ کہ انہوں نے مجھے ککڑی اور کھجور ملا کر کھلائی تو اس سے میں خوب موٹی تازی ہو گئی۔