قسم الحديث (القائل): مقطوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْحُدُودِ (بَابٌ فِي الْغُلَامِ يُصِيبُ الْحَدَّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4404.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَطِيَّةُ الْقُرَظِيُّ، قَالَ: كُنْتُ مِنْ سَبْيِ بَنِي قُرَيْظَةَ، فَكَانُوا يَنْظُرُونَ, فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ لَمْ يُقْتَلْ، فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ.

سنن ابو داؤد:

کتاب: حدود اور تعزیرات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: نابالغ اگر قابل حد جرم کرے تو اس پر حد نہیں لگتی ( نیز علامات بلوغت کا بیان )

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4404.   سیدنا عطیہ قرظی ؓ کہتے ہیں کہ میں بنو قریظہ کے قیدیوں میں سے تھا، چنانچہ مسلمانوں نے دیکھنا شروع کیا، یعنی جس جس کے (زیر ناف) بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا اور جس کے نہیں اگے تھے اسے قتل نہ کیا گیا، چنانچہ میں ان میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے۔