قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابٌ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ، أَوْ نَسِيَهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

444.   حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ وَهَذَا لَفْظُ عَبَّاسٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْقِتْبَانِيَّ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ صُبْحٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ الزِّبْرِقَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَنَامَ، عَنِ الصُّبْحِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تَنَحَّوْا عَنْ هَذَا الْمَكَانِ»، قَالَ: «ثُمَّ أَمَر بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ تَوَضَّئُوا وَصَلَّوْا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ»

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جو شخص نماز کے وقت میں سوتا رہ جائے یا نماز(پڑھنا) بھول جائے؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

444.   جناب زبرقان نے اپنے چچا سیدنا عمرو بن امیہ ضمری سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ صبح کے وقت میں سوئے رہے حتیٰ کہ سورج نکل آیا۔ جب آپ ﷺ جاگے تو فرمایا: ”اس جگہ سے دور ہو چلو۔“ پھر بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اذان کہی۔ پھر سب نے وضو کیا اور فجر کی سنتیں پڑھیں۔ پھر بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور (آپ ﷺ نے) انہیں صبح کی نماز پڑھائی۔