قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ يُقَادُ مِنَ الْقَاتِلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

4527.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ

سنن ابو داؤد:

کتاب: دیتوں کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: قاتل سے قصاص لینے کا بیان

)
  باب تمہید

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

4527.   سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا (اور ابھی اس میں زندگی کی رمق باقی تھی) تو اس سے پوچھا گیا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ (ہاں) تو اس یہودی کو پکڑا گیا اور پھر اس نے اعتراف کر لیا تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں سے کچلا جائے۔