قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الْأَدَبِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

5033.   حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: >إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، وَلْيَقُلْ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَيَقُولُ هُوَ، يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: آداب و اخلاق کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: چھینک کا جواب کس طرح دیا جائے ؟

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

5033.   سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ کہے: «الحمد لله على كل حال» ”ہر حال میں اﷲ کی تعریف ہے۔“ اور اس کے بھائی یا ساتھی کو چاہیئے کہ کہے: «يرحمك الله» ”ﷲ تم پر رحم فرمائے۔“ اور پھر وہ جسے چھینک آئی ہو کہے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» ”ﷲ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے احوال درست کر دے۔“