قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن أبي داؤد: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ الْإِمَامِ يُصَلِّي مِنْ قُعُودٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

602.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَوَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا بِالْمَدِينَةِ، فَصَرَعَهُ عَلَى جِذْمِ نَخْلَةٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، فَأَتَيْنَاهُ نَعُودُهُ، فَوَجَدْنَاهُ فِي مَشْرُبَةٍ لِعَائِشَةَ، يُسَبِّحُ جَالِسًا، قَالَ: فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَسَكَتَ عَنَّا، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ مَرَّةً أُخْرَى نَعُودُهُ، فَصَلَّى الْمَكْتُوبَةَ جَالِسًا، فَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْنَا، فَقَعَدْنَا، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ, قَال:َ >إِذَا صَلَّى الْإِمَامُ جَالِسًا, فَصَلُّوا جُلُوسًا، وَإِذَا صَلَّى الْإِمَامُ قَائِمًا, فَصَلُّوا قِيَامًا، وَلَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا<.

سنن ابو داؤد:

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: امام اگر بیٹھ کر نماز پڑھائے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

602.   سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینے میں ایک گھوڑے پر سوار ہوئے، اس نے آپ کو کھجور کے ایک تنے پر گرا دیا۔ اس سے آپ کے پاؤں میں موچ آ گئی (یا اپنے جوڑ سے نکل گیا) ہم آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے تو آپ کو سیدہ عائشہ‬ ؓ ک‬ے کمرے میں پایا۔ آپ ﷺ بیٹھ کر نفل پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ ہماری بابت خاموش رہے۔ ہم پھر دوبارہ عیادت کے لیے آئے تو آپ نے فرض نماز بیٹھ کر پڑھی اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں اشارہ کیا تو ہم بیٹھ گئے۔ راوی نے کہا جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو فرمایا ”جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو بیٹھ کر پڑھا کرو اور جب وہ کھڑے ہو کر پڑھے تو کھڑے ہو کر پڑھو اور اس طرح نہ کرو جیسے اہل فارس اپنے بڑوں کے ساتھ کرتے ہیں۔“