قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

سنن أبي داؤد: کِتَابُ تَفْرِيعِ مَا یَقطَعُ الصَلَاۃ وَمَا لَا یَقطَعُھَا (بَابٌ سُتْرَةُ الْإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ)

حکم : حسن صحيح

ترجمۃ الباب:

708.   حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ الْغَازِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ هَبَطْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ يَعْنِي فَصَلَّى إِلَى جِدَارٍ فَاتَّخَذَهُ قِبْلَةً وَنَحْنُ خَلْفَهُ فَجَاءَتْ بَهْمَةٌ تَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَا زَالَ يُدَارِئُهَا حَتَّى لَصَقَ بَطْنَهُ بِالْجِدَارِ وَمَرَّتْ مِنْ وَرَائِهِ أَوْ كَمَا قَالَ مُسَدَّدٌ

سنن ابو داؤد:

کتاب: ان چیزوں کی تفصیل جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور جن سے نماز نہیں ٹوٹتی 

  (

باب: امام کا سترہ اس کے پیچھے والوں کا بھی سترہ ہوتا ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ ابو عمار عمر فاروق سعیدی (دار السلام)

708.   جناب عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام ”ثنیہ اذاخر“ میں پڑاؤ کیا۔ نماز کا وقت ہو گیا تو آپ ﷺ نے ایک دیوار کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور ہم آپ ﷺ کے پیچھے تھے۔ بکری کا ایک بچہ آیا اور آپ ﷺ کے آگے سے گزرنے لگا، مگر آپ ﷺ اسے روکتے رہے، حتیٰ کہ آپ ﷺ کا پیٹ دیوار سے جا لگا اور وہ بچہ آپ ﷺ کے پیچھے سے گزر گیا۔ مسدد کے الفاظ یہی تھے یا اسی طرح کے قریب۔