قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِرَكْعَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1175 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ قَالَ اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا السِّمَاكُ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: ایک رکعت وتر نماز پڑھنادرست ہے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1175.   حضرت ابو مجلز رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہوئے کہا کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت ہے۔‘‘ ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے کہا: یہ فرمایئے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے؟ یہ فرمایئے کہ اگر میں سویا رہ جاؤں (پھر وتر کیسے پڑھوں؟) ابن عمر ؓ نے فرمایا: فرمایئے فرمایئے کو اس ستارے کے پاس پھینک دو۔ میں نے سر اٹھایا تو مجھے سماک ستارہ نظر آیا، ابن عمر ؓ نے دو بارہ یہی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ’’رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر صبح صادق سے پہلے کی ایک رکعت ہے۔‘‘