Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of Zubair)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
124.
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے مجھ سے فرمایا: عروہ! تمہارے والد اور نانا ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے زخمی ہونے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کی، یعنی ابو بکر اور زبیر ؓ۔
تشریح:
(1) اس حدیث سے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی طرف اشارہ ہے: ﴿الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ﴾(آل عمران: 172) ’’جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کیا، اس کے بعد کہ انہیں زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیز گاری اختیار کی، ان کے لیے بہت زیادہ اجر ہے۔‘‘ (2) اس آیت میں غزوہ احد کے بعد کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا موقع گنوا دیا ہے، چنانچہ انہوں نے واپس پلٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ خطرہ محسوس کیا کہ مکی لشکر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، چنانچہ آپ نے اعلان فرما دیا کہ جنگ احد میں حصہ لینے والے تمام مجاہد دوبارہ کوچ کریں۔ آپ نے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک تعاقب کیا، جب مشرکین کو یہ خبر پہنچی تو وہ مرعوب ہو گئے اور مدینہ پر حملہ کیے بغیر واپس چلے گئے۔ (دیکھیے: الرحیق المختوم،ص:386) (3) حضرت عروہ بن زبیر ؓ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں۔ اس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے نانا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ان کے والد ہوئے۔
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
130
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
124
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
124
تمہید کتاب
تمہید باب
٭پیدائش اور نام نسب: نام و نسب یوں ہے: حضرت زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مرہ بن لوی قریشی اسدی۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت صفیہ نبی اکرم ﷺکی پھوپھی تھیں۔ آپ کے دادا حضرت خدیجہ ام المومنین ؓ کے والد تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ نے آپ کی کنیت ابوطاہر رکھی جبکہ آپ نے ابوعبداللہ کنیت اختیار کی۔ تقریبا 15 برس کی عمر میں اسلام قبول کیا تو آپ مسلمانوں میں چوتھے یا پانچوین نمبر پر تھے۔ آپ نے ہجرت مدینہ اور ہجرت حبشہ کا شرف حاصل کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے مواخاۃ میں انہیں سلمہ بن سلامہ بن دقش کا بھائی بنایا۔ حضرت زبیر ان دس خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی۔ اس کے علاوہ انہیں یہ عظیم شرف حاصل ہے کہ حضرت عثمان، عبدالرحمٰن بن عوف، مقداد اور حضرت عبداللہ بن مسعود جیسے اکابر صحابہ نے آپ کو اپنی اولاد کے بارے میں وصیت کی تھی، لہذا وہ ان صحابہ کی اولاد کے مال کی حفاظت کرتے تھے اور اپنے ذاتی مال سے ان کی دیکھ بھال فرماتے تھے۔ جنگ جمل میں حضرت زبیر حضرت علی کے ساتھ جنگ کرنے سے رک گئے اور لشکر سے الگ ہو کر وادی سباع میں تشریف لے گئے۔ وہاں حالت نماز میں ابن جرموز نامی شخص نے حضرت علی کے تقرب کے حصول کے لیے آپ کو شہید کر دیا۔ جب یہ شخص انعام و اکرام کے لالچ میں آپ کی تلوار لے کر حضرت علی کی خدمت میں پہنچا تو حضرت علی نے حاضری کی اجازت نہ دی بلکہ فرمایا: "حضرت زبیر کے قاتل کو جہنم کی خوش خبری سنا دو۔" اس طرح آپ 36 ہجری میں جمادی الاولیٰ کی دس تاریخ کو جمعرات کے دن شہید ہو گئے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 64 سال تھی۔ .٭ حلیہ مبارک: حضرت زبیر بڑے وجیہ اور خوب صورت شخصیت کت مالک تھے۔ آپ کا قد دراز، جسم متوازن، رنگ گندمی، داڑھی چھدری اور سر کے بال لمبے تھے۔ شہادت کے وقت تک صحت انتہائی شاندار تھی۔٭ ازواج و اولاد: آپ کی ازواج اور اولاد کی تفصیل درج ذیل ہے:٭اسماء بنت ابی بکر: ان سے آپ کی بڑی نامور اولاد پیدا ہوئی، مثلا: حضرت عبداللہ، عروہ، منذر، عاصم، مہاجر، خدیجۃ الکبری، ام الحسن اور عائشہ۔٭ امۃ بنت خالد بن سعید بن عاص: ان کے بطن سے خالد، عمرو، حبیبہ، سودہ اور ہند پیدا ہوئے۔٭رباب بنت انیف بن عبید: حضرت معصب، حمزہ اور رملہ ان سے پیدا ہوئے۔٭ زینب: عبیدہ اور جعفر دو بیٹے ان سے پیدا ہوئے۔٭ ام کلثوم بنت عقبہ: ان سے صرف ایک بیٹی زینب پیدا ہوئی۔٭ حلال بنت قیس: ان سے بھی ایک بیٹی خدیجۃ الصغریٰ پیدا ہوئیں۔
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے مجھ سے فرمایا: عروہ! تمہارے والد اور نانا ان لوگوں میں شامل ہیں، جنہوں نے زخمی ہونے کے بعد بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کی، یعنی ابو بکر اور زبیر ؓ۔
حدیث حاشیہ:
(1) اس حدیث سے قرآن مجید کی اس آیت مبارکہ کی طرف اشارہ ہے: ﴿الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ﴾(آل عمران: 172) ’’جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کیا، اس کے بعد کہ انہیں زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور پرہیز گاری اختیار کی، ان کے لیے بہت زیادہ اجر ہے۔‘‘ (2) اس آیت میں غزوہ احد کے بعد کے حالات کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب واپس ہوئے تو راستے میں انہیں خیال آیا کہ ہم نے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کا موقع گنوا دیا ہے، چنانچہ انہوں نے واپس پلٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ خطرہ محسوس کیا کہ مکی لشکر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، چنانچہ آپ نے اعلان فرما دیا کہ جنگ احد میں حصہ لینے والے تمام مجاہد دوبارہ کوچ کریں۔ آپ نے آٹھ میل دور حمراء الاسد تک تعاقب کیا، جب مشرکین کو یہ خبر پہنچی تو وہ مرعوب ہو گئے اور مدینہ پر حملہ کیے بغیر واپس چلے گئے۔ (دیکھیے: الرحیق المختوم،ص:386) (3) حضرت عروہ بن زبیر ؓ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے ہیں۔ ان کی والدہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا ہیں۔ اس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے نانا اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ان کے والد ہوئے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا (ابوبکر) اور والد (زبیر) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ﴿الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ﴾’’جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا‘‘ (سورة آل عمران: 172)، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
حدیث حاشیہ:
۱؎: پوری آیت یوں ہے: ﴿الَّذينَ استَجابوا لِلَّهِ وَالرَّسولِ مِن بَعدِ ما أَصابَهُمُ القَرحُ لِلَّذينَ أَحسَنوا مِنهُم وَاتَّقَوا أَجرٌ عَظيمٌ﴾ یعنی: ”جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے“(سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی رحمہ اللہ نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمدﷺ کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھی کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated from Hishám bin ‘Urwah that his father said: “ Aisha (RA) said to me: ‘O ‘Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of Allah and the Messenger (Muhammad) after being wounded, (they were) Abu Bakr (RA) and Zubair” (Sahih)