موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَثْرَةِ السُّجُودِ)
حکم : صحیح
1423 . حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَهُ مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ فَقُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَنْفَعَنِي بِهِ، قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ عُدْتُ فَقُلْتُ مِثْلَهَا، فَسَكَتَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ لِي: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً» قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: کثرت سے سجدے کرنے کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1423. حضرت معدان بن ابو طلحہ یعمری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں حضرت ثوبان ؓ سے ملا تو میں نے عرض کیا: مجھے کوئی حدیث سنایئے شاید اللہ مجھے اس سے فائدہ پہنچائے۔ وہ خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ عرض کیا تو وہ خاموش رہے۔ میں نے تین بار یہی کہا تو مجھ سے فرمایا: اللہ کے لیے سجدے کیا کر کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ’’جو بندہ اللہ کے لیے ایک سجدہ کرتا ہے، اس کی وجہ سے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک غلطی معاف کر دیتا ہے۔‘‘ معدان ؓ نے فرمایا: پھر میری ملاقات ابو درداء ؓ سے ہوئی، میں نے ان سے بھی یہی درخواست کی تو انہوں نے بھی مجھے یہی جواب دیا۔