قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1491 .   حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ» ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ: «وَجَبَتْ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لِهَذِهِ وَجَبَتْ، وَلِهَذِهِ وَجَبَتْ، فَقَالَ: «شَهَادَةُ الْقَوْمِ، وَالْمُؤْمِنُونَ شُهُودُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : فوت ہونے والے کی تعریف

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1491.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’واجب ہوگئی۔‘‘ پھر ایک اور جنازہ گزرا، اس کے بارے میں بری رائے ظاہر کی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’واجب ہوگئی۔‘‘ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے حق میں بھی فرمایا: واجب ہوگئی اور اس کے حق میں بھی فرمایا: واجب ہوگئی (اس کا کیا مطلب ہے؟) فرمایا: ’’لوگوں کی گواہی (اور اس کے نتیجے میں جنت ہے یا جہنم) مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔‘‘