موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ)
حکم : صحیح
1528 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا وَقَالَ «أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا» قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ مِنْكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ؛ فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ» ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب : قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1528. حضرت زید بن ثابت ؓ کے بڑے بھائی یزید بن ثابت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ باہر گئے جب آپ ﷺ بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی نبی ﷺ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ نے کہا: فلاں خاتون ہے (یہ ان کی قبر ہے۔) آپ نے اسے پہچان لیا۔ فرمایا: ’’تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟ ‘‘ انہوں نے کہا: آپ دو پہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔ آپ نے فرمایا: ’’یوں نہ کیا کرو۔ مجھے (تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہر گز خبر نہ ملے۔ جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو، مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیوں کہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔‘‘ پھر آپ ﷺ قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔