قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْقَبْرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1530 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ «مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي؟» قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، «فَأَتَى قَبْرَهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1530.   حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہوگیا۔ (وفات سے پہلے بیماری کے ایام میں) رسول اللہ ﷺ اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام نے اسے رات ہی کو دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو بتایا۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے خبر کرنے میں تمہیں کیا مانع تھا؟‘‘ انہوں نے کہا: رات کا وقت تھا اور اندھیرا بھی تھا تو ہم نے آپ کو تکلیف دینا پسند نہ کیا۔ آپ ﷺ نے اس شخص کی قبر پر جا کر نماز جنازہ ادا کی۔