موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ، وَشَقِّ الْجُيُوبِ)
حکم : صحیح
1586 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي بُرْدَةَ، قَالَا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَمَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ، وَسَلَقَ، وَخَرَقَ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب : (مصیبت کے وقت) چہرے پر طمانچے مارنا اور گریبان چاک کرنا منع ہے
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1586. حضرت عبدالرحمن بن یزید اور ابو بردہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جب ابو موسیٰ ؓ زیادہ بیمار ہوگئے تو ان کی بیوی ام عبداللہ ؓ بلند آواز سے رونے لگیں۔ ابو موسیٰ ؓ کو کچھ افاقہ ہوا تو فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں بھی اس سے بے زار ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے بیزار کا اظہار فرمایا ہے؟ (اس بیماری سے پہلے) وہ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اس شخص سے بے زار ہوں جو (اظہار غم کے لیے) بال منڈوائے یا بین کرے یا کپڑے پھاڑے۔‘‘