قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

1590 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ، فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللَّهُ، وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قَالُوا: قُتِلَ زَوْجُكِ، قَالَتْ: وَاحُزْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً، مَا هِيَ لِشَيْءٍ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب : میت پر رونے کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1590.   حضرت محمد بن عبداللہ بن حجش نے (اپنی پھوپھی) حمنہ بنت حجش ؓ کے بارے میں بیان فرمایا کہ (غزوہٴ احد کے موقع پر) انہیں کہا گیا: آپ کے بھائی جان (عبداللہ بن حجش ؓ) شہید ہوگئے۔ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے ﴿وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ (کچھ دیر بعد) لوگوں نے انہیں کہا: آپ کے خاوند ( مصعب بن عمیر ؓ ) شہید ہوگئے۔ ان کے منہ سے نکلا، ہائے میرا غم! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عورت کو خاوند سے جو قبلی تعلق ہوتا ہے وہ اور کسی سے نہیں ہوتا۔‘‘