موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِﷺ)
حکم : صحیح
1618 . حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَيْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اشْتَكَى فَعَلَقَ يَنْفُثُ فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثَةِ آكِلِ الزَّبِيبِ وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَنْ يَدُرْنَ عَلَيْهِ قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ بِالْأَرْضِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَتَدْرِي مَنْ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّهِ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل
باب: رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1618. عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ ؓ سے استفسار کرتے ہوئے کہا: امی جان! مجھے اللہ کے رسول ﷺ کے (قریب وفات) مرض کے متعلق بتایئے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بیمار ہوگئے۔ آپ پھونک مارنے لگے۔ ہم آپ کی پھونک کو منقیٰ کھانے والے کی پھونک سے تشبیہ دیتے تھے۔ آپ باری باری ازواج مطہرات کے ہاں اقامت فرماتے تھے۔ جب آپ زیادہ بیمار ہوگئے تو امہات المومنین سے اجازت طلب کی کہ نبی ﷺ خود عائشہ ؓ کے گھر میں ٹھہرے رہیں اور ازواج مطہرات اپنی اپنی باری پر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی رہیں۔ ام المومنین ؓ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ دو آدمیوں کے درمیان (ان کے سہارے سے چلتے ہوئے) میرے گھر میں داخل ہوئے اور (ضعف کی وجہ سے) آپ کے قدم مبارک زمین پر لکیر بناتے آ رہے تھے۔ ان دو حضرات میں سے ایک عباس ؓ تھے۔ (عبیداللہ بیان کرتے ہیں) میں نے یہ حدیث ابن عباس ؓ کے سامنے بیان کی۔ انہوں نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ ؓ نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے۔