قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجَنَائِزِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِﷺ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

1619 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ أَذْهِبْ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا فَلَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقُولُهَا فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى قَالَتْ فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: رسول اللہ ﷺ کے مرض وفات کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

1619.   حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ ان الفاظ کے ساتھ اللہ کی پناہ حاصل کرتے تھے: (أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ. وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِى لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا) ’’اے انسانوں کے رب! بیماری دور کر دے اور شفا دے دے تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں، ایسی شفا عطا فرما جو بیماری کو بالکل باقی نہ چھوڑے۔‘‘ جس بیماری میں نبی ﷺ کی وفات ہوئی، اس کے دوران میں جب طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی تو میں یہ دعا پڑھتی اور نبی ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ (حیات مبارکہ کے آخری دن جب میں نے دم کرنا چاہا) تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے ہاتھ سے نکال لیا اور فرمایا: (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِى وَأَلْحِقْنِى بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى) ’’اے اللہ! میری مغفرت فر اور مجھے بلند مرتبہ ساتھیوں سے ملادے۔‘‘ ام المومنین نے فرمایا: یہ آخری الفاظ ہیں جو میں نے آپ ﷺ کی زبان مبارک سے سنے۔