Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: The Virtues Of The Ansar)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
164.
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انصار بدن سے متصل لباس (کی طرح) ہیں اور دوسرے لوگ چادر (کی طرح) ہیں۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی اختیار کریں،اور انصاردوسری وادی کی طرف چلیں، تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔‘‘
تشریح:
(1) اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن ہے جو ضعیف ہے لیکن یہ حدیث دوسری صحیح سندوں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ (صحيح البخاري، كتاب مناقب الانصار، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: لولا الهجرة لكنت إمرا من الأنصار، حديث:3779، و صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب اعطاء المولفة قبولبهم علي الاسلام و تصبر من قوي ايمانه، حديث:1059) اس لیے یہ حدیث صحیح ہے۔ (2) یہ ارشاد مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے بعد فرمایا تھا۔ غنیمتوں کی تقسیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بالکل نہیں دیا تھا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ انصار کی جاں نثاری اور بہادری کا انکار نہیں، لیکن چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مقرب اور ایمان میں زیادہ مضبوط ہیں، اس لیے ان کے ایمان پر اعتماد کر کے ان کے بجائے دوسرے افراد کو دیا گیا جنہیں تالیف قلب کی ضرورت تھی۔ (3) اس ارشاد مبارک سے انصار کا بلند مقام واضح ہوتا ہے اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بھی انصار کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ (4) اس حدیث میں انصار کو شعار اور دوسرے مسلمانوں کو دثار فرمایا گیا ہے۔ شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو پہننے والے کے جسم سے مس ہوتا ہے اور دثار وہ لباس ہوتا ہے جو شعار کے اوپر پہنا جاتا ہے۔ اس تشبیہ سے مقصود، اس بات کا اظہار تھا کہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوص قرب کے شرف سے مشرف ہیں۔ (5) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہجرت ایک عظیم عمل ہے اسی طرح مہاجرین کی مدد اور نصرت بھی ایک عظیم عمل ہے۔ (6) مہاجرین کے بعد انصار سب سے افضل ہیں۔
الحکم التفصیلی:
قال الألباني في " السلسلة الصحيحة " 4 / 367 :
أخرجه ابن ماجة ( 164 ) عن عبد المهيمن بن عباس بن سهل بن سعد عن أبيه عن
جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : فذكره . قال البوصيري في
" الزوائد " ( 12 / 1 ) : " هذا إسناد ضعيف ، و الآفة فيه من عبد المهيمن بن
عباس ، و باقي رجال الإسناد ثقات . رواه الترمذي في " الجامع " من حديث أبي بن
كعب إلا أنه لم يقل : " الأنصار شعار و الناس دثار " و قال : " لو سلك " بدل
" استقبلوا " و الباقي نحوه ، و قال : " حديث حسن " .
قلت : هذا الحديث صحيح جدا ، و لقد قصر البوصيري في حقه حين لم يستشهد له إلا
بحديث الترمذي ، فأوهم أنه لا شاهد له سواه ، و ليس كذلك ، و أسوأ منه عملا
السيوطي ، فإنه أورده في " الزيادة على الجامع الصغير " ( ق 69 / 1 ) من رواية
ابن ماجة فقط عن سهل ، و كان الواجب أن يذكر له بعض الشواهد التي تدل على أنه
صحيح لغيره ، و لو اختلفت بعض ألفاظه كما هي غالب عادته ، و لذلك رأيت من
الواجب ذكر بعض الشواهد ليكون الواقف عليها على بينة من صحة الحديث ، و الموفق
الله تعالى . و قد جاء الحديث عن عبد الله بن زيد بن عاصم و أنس بن مالك و أبي
هريرة و أبي قتادة و أبي بن كعب .
1 - أما حديث عبد الله بن زيد ، فأخرجه البخاري ( 3 / 152 و 4 / 412 ) و مسلم
( 3 / 108 - 109 ) و أحمد ( 4 / 42 ) بتقديم و تأخير ، و لفظه : " لولا الهجرة
لكنت امرأ من الأنصار و لو سلك الناس واديا أو شعبا لسلكت وادي الأنصار و شعبها
، و الأنصار شعار و الناس دثار ، إنكم ستلقون بعدي أثرة فاصبروا حتى تلقوني على
الحوض " .
2 - حديث أنس ، أخرجه البخاري ( 3 / 4 و 153 و 154 ) و مسلم ( 3 / 106 و 107 )
و أحمد ( 3 / 169 و 172 و 188 و 246 و 249 و 275 و 280 ) من طرق عنه و ليس عند
الشيخين إلا الجملة الوسطى من لفظ الترجمة و هو رواية أحمد و إسناده في الرواية
الأولى التامة صحيح على شرط مسلم .
3 - حديث أبي هريرة ، أخرجه البخاري ( 3 / 5 و 4 / 412 ) و ابن حبان ( 2292 )
و أحمد ( 2 / 410 و 414 و 419 و 469 و 501 ) من طرق عنه ، و ليس عند البخاري
و ابن حبان الجملة الأولى منه خلافا لأحمد في رواية ، و إسناده صحيح أيضا على
شرط مسلم .
4 - حديث أبي قتادة ، أخرجه أحمد ( 5 / 307 ) عنه بتمامه و كذا الحاكم ( 4 / 79
) و قال : " صحيح الإسناد " . و وافقه الذهبي ، و هو كما قالا . و قال الهيثمي
في " المجمع " ( 10 / 35 ) : " رواه أحمد و رجاله رجال الصحيح غير يحيى بن
النضر الأنصاري و هو ثقة " .
5 - حديث أبي بن كعب ، أخرجه الترمذي ( رقم 3895 ) و أحمد ( 5 / 137 و 138 )
و عنه الحكم ( 4 / 78 ) عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن الطفيل بن أبي بن كعب
عن أبيه مرفوعا به ، دون الجملة الأولى ، و قال الترمذي : " حديث حسن " . و قال
الحاكم : " صحيح الإسناد " ! و وافقه الذهبي !
قلت : هو حسن الإسناد عند أحمد ، فإن له عنده طريقا أخرى صحيحة عن ابن عقيل
و هو حسن الحديث . و في الباب عن جمع آخر من الصحابة ، فمن شاء الإطلاع عليها ،
فليرجع إلى " مجمع الزوائد " ، و فيما ذكرنا كفاية .
( تنبيه ) لم تقع الجملة الثالثة من الحديث في نسخة بولاق من " الترمذي " ( 2 /
324 ) و لذلك اعتمدنا في هذا التخريج على نسخة الأستاذ الدعاس ، و لقد كان يحسن
به التنبيه على ذلك .
ترقیم حرف کمپنی (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
170
٧
ترقيم دار الرّسالة العالمية (جامع خادم الحرمين للسنة النبوية)
ترقیم دار الرسالہ العالمیہ (خادم الحرمین الشریفین حدیث ویب سائٹ)
164
٨
ترقيم فؤاد عبد الباقي (دار السلام)
ترقیم فواد عبد الباقی (دار السلام)
164
تمہید کتاب
تمہید باب
٭ انصار: لفظ "انصار" ناصر کی جمع ہے جس کے معنی "مددگار" کے ہیں۔ جب رسول اللہ ﷺمکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو مدینہ منورہ میں دو بڑے قبیلے آباد تھے: اَوس جس کے سردار کا نام سعد بن معاذ تھا اور خزرج جس کے رئیس سعد بن عبادۃ تھے۔ اوس اور خزرج دو بھائی تھے۔ ان کی والدہ کا نام قیلہ تھا۔ عرب کے مشہور قبیلہ ازد کی تمام شاخیں، جن میں قبیلہ اوس اور خزرج بھی شامل ہیں، حارثہ بن عمرو پر جا کر مل جاتی ہیں۔ اوس اور خزرج نے مسلمان ہو کر نبی ﷺ کی مدد اوت تعاون کا معاہدہ کیا تو آپ نے ان دو قبیلوں کو عزت و شرف عطا کرتے ہوئے "انصار" کا نام عطا فرمایا۔ (صحیح البخاری، مناقب الانصار، حدیث:3776)
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’انصار بدن سے متصل لباس (کی طرح) ہیں اور دوسرے لوگ چادر (کی طرح) ہیں۔ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی اختیار کریں،اور انصاردوسری وادی کی طرف چلیں، تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی، تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) اس کی سند میں ایک راوی عبدالمہیمن ہے جو ضعیف ہے لیکن یہ حدیث دوسری صحیح سندوں سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ (صحيح البخاري، كتاب مناقب الانصار، باب قول النبي صلي الله عليه وسلم: لولا الهجرة لكنت إمرا من الأنصار، حديث:3779، و صحيح مسلم، كتاب الزكاة، باب اعطاء المولفة قبولبهم علي الاسلام و تصبر من قوي ايمانه، حديث:1059) اس لیے یہ حدیث صحیح ہے۔ (2) یہ ارشاد مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے بعد فرمایا تھا۔ غنیمتوں کی تقسیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بالکل نہیں دیا تھا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ انصار کی جاں نثاری اور بہادری کا انکار نہیں، لیکن چونکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مقرب اور ایمان میں زیادہ مضبوط ہیں، اس لیے ان کے ایمان پر اعتماد کر کے ان کے بجائے دوسرے افراد کو دیا گیا جنہیں تالیف قلب کی ضرورت تھی۔ (3) اس ارشاد مبارک سے انصار کا بلند مقام واضح ہوتا ہے اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں بھی انصار کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ (4) اس حدیث میں انصار کو شعار اور دوسرے مسلمانوں کو دثار فرمایا گیا ہے۔ شعار اس کپڑے کو کہتے ہیں جو پہننے والے کے جسم سے مس ہوتا ہے اور دثار وہ لباس ہوتا ہے جو شعار کے اوپر پہنا جاتا ہے۔ اس تشبیہ سے مقصود، اس بات کا اظہار تھا کہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خصوص قرب کے شرف سے مشرف ہیں۔ (5) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ہجرت ایک عظیم عمل ہے اسی طرح مہاجرین کی مدد اور نصرت بھی ایک عظیم عمل ہے۔ (6) مہاجرین کے بعد انصار سب سے افضل ہیں۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
سعد بن مالک انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’انصار ’’شعار‘‘ ہیں ۱؎ ، اور لوگ ’’دثار‘‘ ہیں ۲؎ ، اگر لوگ کسی وادی یا گھاٹی میں جائیں اور انصار کسی دوسری وادی میں جائیں تو میں انصار کی وادی میں جاؤں گا ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا ۔‘‘
حدیث حاشیہ:
۱؎: ’’شعار‘‘: بدن سے متصل کپڑا، یعنی میرے قریب تر اور نصرت دین میں خاص الخاص ہیں۔ ۲؎ ’’دثار‘‘: اوپر پہنا جانے والا کپڑا یعنی ان کے مقابلہ میں دور، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہجرت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معظم اور قابل قدر عمل ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated from ‘Abdul-Muhaimin bin ‘Abbâs bin Sahl bin Sa’d, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Ansar are an inner garment and the people are an outer garment. If the people were to head towards one valley or a narrow mountain pass and the Ansdr towards another, I would travel to the valley of the Ansar, and were it not for the Hijrah, I would have been a man from among the Ansar.” (Sahih)