موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): موقوف ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَاب الصِّيَامِ (بَابُ مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ)
حکم : صحیح
1671 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلَكْتُ قَالَ وَمَا أَهْلَكَكَ قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتِقْ رَقَبَةً قَالَ لَا أَجِدُ قَالَ صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ قَالَ لَا أُطِيقُ قَالَ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا قَالَ لَا أَجِدُ قَالَ اجْلِسْ فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ فَقَالَ اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا قَالَ فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ.
سنن ابن ماجہ:
کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت
باب: رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کا کفارہ
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
1671. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا، میں تباہ ہوگیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو کیسے تباہ ہوگیا؟ ‘‘ اس نے کہا: میں رمضان میں اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھا ہوں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ’’ایک انسان (غلام یا لونڈی) آزاد کرو۔‘‘ اس نے کہا: میرے پاس (غلام خریدنے کے لئے مال) نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’مسلسل دو ماہ روزے رکھ لو۔‘‘ اس نے کہا: مجھ میں اس کی طاقت نہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلادو۔‘‘ اس نے کہا: میرے پاس (اتنا مال بھی) نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ تو وہ بیٹھ گیا۔ اسی اثنا میں آپ ﷺ کی خدمت میں (کھجوروں کا) ایک ٹوکرا لایا گیا، جسے عَرَق کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جاؤ یہ صدقہ کر دو۔‘‘ اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، مدینے میں دونوں پتھریلے علاقوں کے درمیان کوئی گھرانا ہم سے زیادہ اس کا ضرورت مند نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جاؤ اور یہ اپنے اہل و عیال کو کھلا دو۔‘‘