موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ السُّنَّةِ (بَابٌ فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ)
حکم : صحیح
183 . حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، قَالَ: إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، قَالَ: ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ، فَيُنَادَى عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قَالَ خَالِدٌ: فِي «الْأَشْهَادِ» شَيْءٌ مِنَ انْقِطَاعٍ، {هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18]
سنن ابن ماجہ:
کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت
باب: فرقہ جہمیہ نے جس چیز کا انکار کیا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
183. حضرت صفوان بن محرز مازنی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، ہم بھی ان کے ساتھ تھے، اچانک ایک آدمی سامنے آگیا، اس نے کہا: اے ابن عمر! آپ نے رسول ﷺ کو سرگوشی کے بارے میں کیا فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے: ’’قیامت کے دن بندے کو رب کے قریب کیا جائے گا، حتٰی کہ اللہ تعالیٰ اس پر پردہ ڈال دے گا، اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا۔ فرمائے گا: کیا تو (فلاں گناہ کو) جانتاہے؟ بندہ کہے گا: یارب! پہچانتا ہوں (میں نے یہ گناہ کیا ہے۔) حتٰی کہ جب اقرار سے اس کی وہ حالت ہو جائے گی، جو اللہ چاہے گا (جب بندے کو یقین ہو جائے گا کہ اب ضرور سخت سزا ملے گی) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں پر پردہ ڈال دیا تھا اور آج انہیں تیرے لئے معاف کرتا ہوں، پھر اسے نیکیوں والی کتاب دائیں ہاتھ میں دے دی جائے گی، اور کافر یا منافق کو سب حاضرین (اہل محشر) کے سامنے پکار کر کہا جائے گا: ﴿هَؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ﴾ ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پرجھوٹ باندھا۔ سنو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘ خالد (بن حارث) نے فرمایا: (عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ ) ’’سب حاضرین کے سامنے‘‘ یہ لفظ منقطع سند سے مروی ہے، باقی پوری حدیث کی سند متصل ہے۔