موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا)
حکم : صحیح
2107 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَ: أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللَّهِ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ» قَالَ: فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أُتِيَ بِإِبِلٍ، فَأَمَرَ لَنَا بِثَلَاثَةِ إِبِلٍ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَحَلَفَ أَلَّا يَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، ارْجِعُوا بِنَا، فَأَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا أَتَيْنَاكَ نَسْتَحْمِلُكَ فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا، ثُمَّ حَمَلْتَنَا، فَقَالَ: «وَاللَّهِ مَا أَنَا حَمَلْتُكُمْ، بَلِ اللَّهُ حَمَلَكُمْ، إِنِّي وَاللَّهِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ» ، أَوْ قَالَ «أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل
باب: جس نے کوئی قسم کھائی پھر اسے دوسری صورت بہتر معلوم ہوئی
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2107. حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں قبیلہ بنو اشعر کے چند افراد کے ساتھ سواریاں طلب کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں سواریاں مہیا نہیں کروں گا۔ اور میرے پاس سواری کے جانور نہیں ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: ہم لوگ، جب تک اللہ نے چاہا، (مدینہ میں) ٹھہرے، پھر آپ کے پاس کچھ اونٹ آ گئے۔ آپ ﷺ نے ہمیں سفید کوہانوں والی (موٹی تازی) تین اونٹنیاں دلوا دیں۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے ایک دوسرے سے کہا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سواریاں طلب کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ ہمیں سواریاں مہیا نہیں کریں گے، پھر ہمیں سواریاں مہیا فرما دیں۔ چلو واپس چلیں (اور دریافت کریں کہ نبی ﷺ نے ہمیں بھول کر سواریاں مہیا نہ فرما دی ہوں۔) چنانچہ ہم حاضر خدمت ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں طلب کرنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمیں سواریاں مہیا نہیں فرمائیں گے، پھر آپ نے ہمیں سواریاں مہیا فرما دیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے تمہیں سواریاں نہیں دیں بلکہ اللہ نے تمہیں سواریاں دی ہیں۔ قسم ہے اللہ کی! میں تو ان شاءاللہ جو بھی قسم کھاؤں گا، پھر مجھے دوسری صورت (قسم پوری کرنے سے) بہتر معلوم ہو گی تو میں اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا اور بہتر کام کر لوں گا۔ یا فرمایا: میں بہتر کام کر لوں گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔