قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ التِّجَارَاتِ (بَابُ الصِّنَاعَاتِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2149 .   حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُحَيْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَاعِيَ غَنَمٍ» ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ» قَالَ سُوَيْدٌ: «يَعْنِي كُلَّ شَاةٍ بِقِيرَاطٍ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: تجارت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: صنعتوں اور پیشوں کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2149.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا مبعوث نہیں فرمایا جو بکریاں چرانے والا نہ ہو۔ صحابہ کرام نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بھی (گلہ بانی کرتے رہے ہیں؟) آپ نے فرمایا: میں بھی (بکریاں چراتا رہا ہوں۔) میں قیراطوں کے بدلے میں مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ (امام ابن ماجہ کے استاد) حضرت سوید بن سعید نے فرمایا: یعنی ہر بکری (کی دیکھ بھال) کی اجرت ایک قیراط ہوتی تھی۔