موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ مَنْ وَقَفَ)
حکم : صحیح
2396 . حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ فَقَالَ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل
باب: وقف کرنے کا بیان
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2396. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عمر بن خطاب ؓ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مشورہ طلب کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے خیبر میں ایسا مال ملا ہے کہ میری نظر میں اس سے عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس (کی پیداوار) کو صدقہ کر دو۔ حضرت عمر ؓ نے ایسے ہی کیا، اور یہ (شرط لگا دی) کہ اصل زمین نہ بیچی جائے گی، نہ (کسی کو) ہبہ کی جائے گی اور نہ (کسی کو) وراثت کے طور پر دی جائے گی۔ آپ نے وہ زمین غریبوں کے لیے، رشتہ داروں کے لیے، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دی، جو اس کا انتظام کرے اس پر گناہ نہیں کہ اس میں سے مناسب حد تک کھائے یا دوست کو کھلائے لیکن اس سے مال نہ کمائے۔