قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّدَقَاتِ (بَابُ مَنِ ادَّانَ دَيْنًا وَهُوَ يَنْوِي قَضَاءَهُ)

حکم : صحيح - دون قوله: " فى الدنيا " -،

ترجمۃ الباب:

2408.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ هِنْدٍ عَنْ ابْنِ حُذَيْفَةَ هُوَ عِمْرَانُ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ مَيْمُونَةَ قَالَ كَانَتْ تَدَّانُ دَيْنًا فَقَالَ لَهَا بَعْضُ أَهْلِهَا لَا تَفْعَلِي وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا قَالَتْ بَلَى إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيِّي وَخَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل 

  (

باب: جو شخص قرض لے اور اس کا ارادہ ادا کرنے کا ہو!

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

2408.   حضرت عمران بن حذیفہ ؓ ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث‬ ؓ س‬ے روایت کرتے ہیں کہ وہ قرض لیا کرتی تھیں۔ ان کے گھر کے کسی فرد نے اس کو نا مناسب سمجھتے ہوئے عرض کیا: آپ ایسا نہ کیا کریں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں نہ لوں؟ میں نے اپنے نبی اور اپنے محبوب ﷺ سے یہ فرمان سنا ہے: جو مسلمان قرض لیتا ہے اور اللہ کو اس کے بارے میں یہ علم ہوتا ہے کہ وہ اسے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض دنیا ہی میں اتار دیتا ہے۔