موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ تَلْقِيحِ النَّخْلِ)
حکم : صحیح
2470 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ سِمَاكٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَرَأَى قَوْمًا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ قَالُوا يَأْخُذُونَ مِنْ الذَّكَرِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي الْأُنْثَى قَالَ مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَبَلَغَهُمْ فَتَرَكُوهُ فَنَزَلُوا عَنْهَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ الظَّنُّ إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوهُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنَّ الظَّنَّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ قَالَ اللَّهُ فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل
باب: مادہ کھجور میں نر کھجور کا پیوند لگانا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2470. حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھجوروں کے ایک باغ میں سے گزرا تو آپ نے دیکھا کہ لوگ کھجوروں کو پیوند لگا رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نر درخت (کے گابھے) سے لے کر مادہ درخت کے (پھولوں کے خوشے کے) اندر رکھ رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے خیال میں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحابہ کرام ؓ کو یہ ارشاد معلوم ہوا تو یہ کام چھوڑ کر درختوں سے اتر آئے۔ نبی ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: یہ تو (میرا) خیال تھا۔ اگر اس سے فائدہ ہوتا ہے تو کر لیا کرو۔ میں تو تم جیسا انسان ہی ہوں اور (انسان کا) خیال غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میں جس مسئلہ میں تمہیں ہوں کہوں: اللہ نے فرمایا تو میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔