قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْوَصَايَا (بَابُ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2714 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيلُ عَلَيَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ أَلَا لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: وارث کےحق میں وصیت جائزنہیں

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2714.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے (منہ کے) نیچے کھڑا تھا جبکہ مجھ پر اس کا لعاب گر رہا تھا۔ (اس وقت) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا: ’’اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔‘‘