قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْخُطْبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3057 .   حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْمُخَضْرَمَةِ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا، وَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا، وَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا؟» قَالُوا: هَذَا بَلَدٌ حَرَامٌ، وَشَهْرٌ حَرَامٌ، وَيَوْمٌ حَرَامٌ قَالَ: أَلَا وَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ، وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَأُكَاثِرُ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تُسَوِّدُوا وَجْهِي، أَلَا وَإِنِّي مُسْتَنْقِذٌ أُنَاسًا، وَمُسْتَنْقَذٌ مِنِّي أُنَاسٌ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي؟ فَيَقُولُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: قربانی کے دن خطبہ دینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3057.   حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہﷺ عرفات میں اپنی کان کٹی اونٹنی پر سوار تھے۔ اس وقت آپ نے فرمایا: ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کون سا دن، کون سا مہینہ اور کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یہ حرمت والا شہر، حرمت والامہینہ اور حرمت والا دن ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’سنو! حقیقت یہ ہے کہ تمہارے مال اور تمہارے خون تمہارے لیے (ایک دوسرے کے لیے) اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) میں، تمہارے اس (حج کے) دن میں تمہارا مہینہ قابل احترام ہے۔ سنو! میں حوض (کوثر) پر تمہارا پیش رو ہوں گا اورتمہاری کثرت تعداد کی وجہ سے دوسری قوموں پر فخر کروں گا تو مجھے (قیامت کے دن) رسوا نہ کر دینا۔ سنو!میں کچھ افراد کو (جہنم سے) چھڑاؤں گا اور کچھ لوگ مجھ سے چھین لیے جائیں گے (اور جہنم میں بھیج دیے جائیں گے۔) میں کہوں گا: میرے رب! میرے ساتھی؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائےگا: آپکو نہیں معلوم، انھوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام کیے۔‘‘