موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ (بَابُ النَّهْيِ عَنْ ذَبْحِ الْأُضْحِيَّةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ)
حکم : صحیح
3154 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَقَالَ غَيْرُ عَبْدِ الْأَعْلَى: عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ، فَوَجَدَ رِيحَ قُتَارٍ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟» فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّيَ، لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي، «فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ» فَقَالَ: لَا، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عِنْدِي، إِلَّا جَذَعٌ، أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ، قَالَ: «فَاذْبَحْهَا، وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ، عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل
باب: نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرنے کی ممانعت کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3154. حضرت ابو زید (عمرو بن اخطب) انصاری سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک گھر کے پاس سے گزرے تو آپﷺ کو گوشت پکنے (یا بھننے) کی خوشبو محسوس ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا: یہ کون ہے جس نے (پہلے ہی ) ذبح کرلیا ہے؟‘‘ ہمارا ایک (انصاری ) آدمی آپﷺ کی طرف باہر نکلا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ہوں، میں نے نماز (عید) سے پہلے (قربانی کا جانور) ذبح کرلیا تھا تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسائیوں کو کھلاؤں۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دوبارہ ذبح کرنے کا حکم دیا تو اس نےکہا: قسم ہے اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! میرے پاس تو صرف بھیڑ کا ایک میمنا ہے۔ آپ نےفرمایا:’’ اسی کو ذبح کردے، تیرے بعد کسی کی طرف سے جذعہ (قربان کرنا)کافی نہیں ہوگا۔‘‘