موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكَنِيفِ، وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارِي)
حکم : ضعیف جداً
323 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ عِيسَى الْحَنَّاطِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَنِيفِهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قَالَ عِيسَى فَقُلْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ فَقَالَ صَدَقَ ابْنُ عُمَرَ وَصَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ فِي الصَّحْرَاءِ لَا يَسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا وَأَمَّا قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ فَإِنَّ الْكَنِيفَ لَيْسَ فِيهِ قِبْلَةٌ اسْتَقْبِلْ فِيهِ حَيْثُ شِئْتَ .
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
باب: قبلہ کی طرف منہ کرنا بیت الخلاء میں جا ئز ہےصحراء میں نہیں
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
323. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت الخلاء میں قبلے کی طرف کر کے بیٹھے ہوئے دیکھا۔ (حدیث کی سند میں ایک راوی) عیسیٰ خیاط بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: حضرت ابن عمر ؓ نے بھی سچ کہا اور حضرت ابو ہریرہ ؓ نے بھی سچ کہا۔ ابو ہریرہ ؓ کی حدیث کا مطلب ہے کہ صحرا (اور کھلے میدان) میں قبلے کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے نہ بیٹھے، اور ابن عمر ؓ کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بیت الخلاء کے اندر قبلے کا خیال رکھنا ضروری نہیں، وہاں تم جدھر چاہو منہ کر سکتے ہو۔