قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابٌ إِذَا رَأَى الضَّيْفُ مُنْكَرًا رَجَعَ)

حکم : حسن

ترجمة الباب:

3360 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا، أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ، فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ، فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: جب مہمان کوئی خلاف شرع کام دیکھے تو ( کھانا کھائے ) واپس ہو جائے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3360.   حضرت ابو عبد الرحمان سفینہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی ؓ کی دعوت کی۔ اس نے ان کے لیے کھانا تیار کیا۔ سیدہ فاطمہ ؓ نے فرمایا: کاش ہم نبیﷺکی بھی دعوت کرتے اور آپﷺ ہمارے ساتھ کھانا کھاتے۔ (اس تجویز کے مطابق ) انھوں نے نبیﷺ کی دعوت کی۔ آپﷺ تشریف لائے اور اپنا ہاتھ دروازے کی چوکھٹ پر رکھا۔ آپﷺ کو گھر میں ایک طرف باریک پردہ نظر آیا تو آپﷺ واپس لوٹ گئے۔ حضرت فاطمہ‬ ؓ ن‬ے حضرت علی ؓ سے کہا: جلدی سے جائیے اور رسول اللہﷺ سے عرض کیجیے: اے اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ واپس کیوں تشریف لے گئے؟ (حضرت علی کے دریافت کرنے پر) نبیﷺ نے فرمایا: ’’مزین گھر میں داخل ہونا میری شان کے لائق نہیں۔‘‘