قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ تَخْمِيرِ الْإِنَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3410 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ، وَأَغْلِقُوا الْبَابَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً، وَلَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ، إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا، وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ، فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ، عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: برتن ڈھانپ کر رکھنا چاہیے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3410.   حضرت جا بر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’برتن ڈھا نپ دیا کرو، مشکیزے کا منہ با ندھ دیا کرو، چراغ بجھا دیا کرو اور دروازہ بند کردیا کرو کیو نکہ شیطان (منہ بند) مشک کو نہیں کھولتا، دروازہ نہیں کھولتا نہیں کھو لتا اور (ڈھا نپے ہوئے) بر تن کو نہیں کھو لتا۔ اگر کسی کو برتن پر رکھنے کے لیے لکڑی (درخت کی پتلی شاخ وغیرہ) کے سوا کچھ نہ ملے تو اسے ہی اللہ کا نا م لے کے کر رکھ دے۔ (چراغ بجھا دیا کرو) اس لیے کہ ننھی شریر چوہیا گھر کو آگ لگا کر (گھر کو یا گھر والوں کو ) جلادیتی ہے۔‘‘