موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطِّبِّ (بَابُ مَنِ اكْتَوَى)
حکم : حسن - دون " ميتة سوء ... "
3492 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ غُنْدَرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي يَحْيَى، وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا، يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ، وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ مِنْ قِبَلِ أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ، يُقَالُ لَهُ الذُّبْحَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا» فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيتَةَ سَوْءٍ لِلْيَهُودِ، يَقُولُونَ: أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ، وَمَا أَمْلِكُ لَهُ، وَلَا لِنَفْسِي شَيْئًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل
باب: خود کو داغنا
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3492. حضرت محمد بن عبدالرحمن بن سعد بن زرارہ انصاری اپنے چچا یحی بن سعد بن زرارہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ محمد ؓ کے نانا حضرت سعد بن زرارہ کو حلق میں درد ہوا جسے ذبح کہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں ابو امامہ (سعد بن زرارہ ؓ) کےعلاج کی پوری کوشش کروں گا حتی کہ معاملہ میرے بس سے باہر ہوجائے۔‘‘ نبی ﷺ نے انہیں اپنے ہاتھ سے داغا لیکن وہ (جان بر نہ ہو سکے اور ) فوت ہوگئے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’یہودیوں کو بری موت نصیب ہو! وہ کہتے ہیں: اس (نبی ﷺ) نے اپنےساتھی کی جان کیوں نہ بچالی؟ میں تو اس کےلیے یا اپنے لیے (اللہ کے فیصلےکےمقابلے میں) کچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘