قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا (بَابُ الرُّؤْيَا إِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ، فَلَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3914 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ، مَا لَمْ تُعْبَرْ، فَإِذَا عُبِرَتْ وَقَعَتْ» . قَالَ: وَالرُّؤْيَا جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ - لَا يَقُصُّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام

 

تمہید کتاب  (

باب: جب خواب کی تعبیر بیان کردی جائے تو اسی طرح واقع ہوجاتی ہے، اس لیے خواب کسی محبت رکھنے والے ہی کو سنانا چاہیے

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3914.   حضرت ابو رزین (لقیط بن صبرہ عقیلی) ؓ سے مروی ہے کہ بے شک انہوں نے نبیﷺ سے سنا، آپ فرمارہے تھے: خواب کی جب تک تعبیر بیان نہ کی جائے اس وقت تک وہ (گویا) پرندے کے پاؤں میں ہوتا ہے۔ جب تعبیر کردی جائے تو واقع ہوجاتا ہے۔ اور فرمایا: خواب نبوت کے چالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ اور غالباً یہ بھی فرمایا: خواب صرف اسی کو سنائے جو محبت رکھنے والا یا سمجھ دار ہو۔