قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا (بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3918 .   حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطُفُ سَمْنًا وَعَسَلًا، وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ مِنْهَا، فَالْمُسْتَكْثِرُ، وَالْمُسْتَقِلُّ، وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا إِلَى السَّمَاءِ، رَأَيْتُكَ أَخَذْتَ بِهِ، فَعَلَوْتَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَكَ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَهُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَهُ فَانْقَطَعَ بِهِ، ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَعْنِي أَعْبُرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «اعْبُرْهَا» ، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ فَالْإِسْلَامُ، وَأَمَّا مَا يَنْطُفُ مِنْهَا مِنَ الْعَسَلِ وَالسَّمْنِ، فَهُوَ الْقُرْآنُ، حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ، وَأَمَّا مَا يَتَكَفَّفُ مِنْهُ النَّاسُ، فَالْآخِذُ مِنَ الْقُرْآنِ كَثِيرًا، وَقَلِيلًا، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ إِلَى السَّمَاءِ، فَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَقِّ، أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَا بِكَ، ثُمَّ يَأْخُذُهُ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِكَ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ثُمَّ يُوَصَّلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، قَالَ: «أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا» ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي بِالَّذِي أَصَبْتُ، مِنَ الَّذِي أَخْطَأْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُقْسِمْ يَا أَبَا بَكْرٍ» .

سنن ابن ماجہ:

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام

 

تمہید کتاب  (

باب: خواب کی تعبیر

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3918.   حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبیﷺ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تو ایک آدمی آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خواب میں ایک سائبان (یابادل) دیکھا ہے جس سے گھی، شہد ٹپک رہا تھا۔ اورمیں نے دیکھا کہ لوگ اس (گھی اور شہد) سے لےرہے ہیں۔ کوئی زیادہ لے رہا ہے کوئی کم اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان تک پہنچی ہوئی تھی۔ اور میں نے دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے سے اوپر تشریف لے گئے، پھر آپ کے بعد ایک اور آدمی نے وہ رسی پکڑی اور وہ اس کے ذریعے سے اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اسے کے ذریعے سے اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر وہ رسی جوڑ دی گئی تو وہ اس کے ذریعے سے اوپر چلا گیا۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس کی تعبیر کرنے کی اجازت دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا: آپ اس کی تعبیر کریں۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: سائبان (یابادل) تو اسلام ہے۔ اس سے ٹپکنے والا شہد اور گھی قرآن، یعنی اس کی شیرینی اور نرمی ہے، اور اس سے لینے والے لوگ کم یا زیادہ قرآن (کاعلم فہم) حاصل کرنے والے ہیں۔ آسمان تک پہنچنے والی رسی سے مراد وہ حق (سچا دین) ہے جس پر آپﷺ قائم ہیں۔ آپﷺ نے اسے پکڑا اور اس کے ذریعے سے بلند ہو گئے (بلند درجات پر فائز ہو گئے) پھر آپ کے بعد ایک آدمی پکڑے گا اور اس کے ذریعے سے بلند ہو جائے گا۔ پھر دوسرا آدمی بھی اس (کوپکڑ کر اس ) کے ذریعے سے بلند ہوجائے گا۔ پھر ایک اور آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی لیکن پھر جڑ جائے گی اور وہ اس کے ذریعے سے بلند ہو جائے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: آپ نے کچھ صحیح کہا اور کچھ غلطی کی ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دے کر عرض کرتا ہوں کہ مجھے بتا دیجیے کہ میں نےکون سی بات صحیح کہ اور کون سی غلط کہی۔ تو نبیﷺ نے فرمایا: ابوبکر! قسم نہ کھاؤ۔