قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ التَّوَكُّلِ وَالْيَقِينِ)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

4165 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَلَّامِ بْنِ شُرَحْبِيلَ أَبِي شُرَحْبِيلَ عَنْ حَبَّةَ وَسَوَاءٍ ابْنَيْ خَالِدٍ قَالَا دَخَلْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُعَالِجُ شَيْئًا فَأَعَنَّاهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَا تَيْئَسَا مِنْ الرِّزْقِ مَا تَهَزَّزَتْ رُءُوسُكُمَا فَإِنَّ الْإِنْسَانَ تَلِدُهُ أُمُّهُ أَحْمَرَ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرٌ ثُمَّ يَرْزُقُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: توکل اور یقین

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4165.   حضرت حبہ بن خالد ؓ اور حضرت سوا بن خالد ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کسی چیز کی مرمت کر رہے تھے۔ ہم نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ کی مدد کی۔ آپ نے فرمایا: ’’جب تک تمہارے سر حرکت کرتے رہیں رزق سے نااُمید مت ہونا۔ انسان کو اس کی ماں جنتی ہے تو وہ (گوشت کےلوتھڑے کی طرح) سرخ ہوتا ہے جس پر مضبوط کھال بھی نہیں ہوتی پھر بھی اللہ عزوجل اسے رزق مہیا فر ماتا ہے۔‘‘