موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ ذِكْرِ التَّوْبَةِ)
حکم : صحیح
4255 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَلَا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثَيْنِ عَجِيبَيْنِ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرَفَ رَجُلٌ عَلَى نَفْسِهِ فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَوْصَى بَنِيهِ فَقَالَ إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي ثُمَّ اسْحَقُونِي ثُمَّ ذَرُّونِي فِي الرِّيحِ فِي الْبَحْرِ فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَدَرَ عَلَيَّ رَبِّي لَيُعَذِّبُنِي عَذَابًا مَا عَذَّبَهُ أَحَدًا قَالَ فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ فَقَالَ لِلْأَرْضِ أَدِّي مَا أَخَذْتِ فَإِذَا هُوَ قَائِمٌ فَقَالَ لَهُ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ خَشْيَتُكَ أَوْ مَخَافَتُكَ يَا رَبِّ فَغَفَرَ لَهُ لِذَلِكَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: توبہ کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4255. امام زہری ؓ نے (اپنے شاگرد معمر سے) فرمایا: کہ میں تجھے دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں۔ (پہلی حدیث یہ ہے جو) حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابو ہر یرہ ؓسے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ’’ایک آ دمی نے اپنی جا ن پر زیادتی کی (اور زندگی میں بہت گناہ کیے) جب اس کی موت کا وقت آیا اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا: جب میں مر جا ؤں تو مجھے جلا دینا پھر مجھے (میری لاش کو) پیس کر مجھے (میری راکھ کو) ہوا میں اڑا دینا اور سمندر میں بہا دینا۔ قسم ہے اللہ کی اگر اللہ نے مجھے پکڑ لیا تو مجھے ایسا عذا ب دے گا۔ جو کسی کو نہیں دیا ہو گا۔ ان بیٹو ں نے ایسے ہی کیا- اللہ نے زمین سے کہا جو تو نے لے لیا ہے۔ حاضر کر دے۔ (ایسے ہی سمندر سے بھی اس راکھ کے ذرات جمع کر کے اسے زندہ کر دیا) اچانک وہ (زندہ سلامت ) کھڑا تھا اللہ نے اس سے فر مایا تو نے جو کا م کیا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میرے رب تیرے خوف نے۔ اللہ تعالی نے اسی وجہ سے اسے معا ف کر دیا۔‘‘