قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ مَا جَاءَ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

434 .   حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ نَعَمْ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

تمہید کتاب  (

باب: سر کےمسح کابیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

434.   حضرت عمرو بن یحییٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے والد) عمرو بن یحییٰ کے دادا سیدنا عبداللہ بن زید ؓ سے عرض کیا: کیا آپ مجھے (عملی طور پر) دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح وضو کرتے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن زید ؓ نے فرمایا: ہاں (ابھی دکھا دیتا ہوں۔) انہوں نے پانی طلب فرمایا، پھر اپنے ہاتھوں پر پانی ڈال کر دوبار ہاتھ دھوئے۔ پھر تین بار کلی کی اور ناک صاف کی، پھر تین بار چہرہ دھویا، پھر کہنیوں تک بازو دو دو بار دھوئے، پھر دونوں ہاتھوں سے سر کا مسح کیا، (مسح کے دوران میں) ہاتھوں کو آگے بھی لائے اور پیچھے بھی لے گئے۔ (مسح کرنا) سر کے اگلے حصے سے شروع کیا، پھر گدی تک ہاتھوں کو لے گئے، پھر واپس اسی جگہ لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں پاؤں دھوئے۔