موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: تقریری
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابٌ فِي فَرْكِ الْمَنِيِّ مِنَ الثَّوْبِ)
حکم : صحیح
538 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِهِ رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي
سنن ابن ماجہ:
کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں
باب: مادہ منویہ کوکپڑے پر سے کھرچ دینا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
538. حضرت ہمام بن حارث ؒ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ ؓ کے ہاں ایک مہمان آ گیا۔ انہوں نے (رات کو سونے کے لئے) اسے ایک زرد لحاف دلوا دیا۔ اسے احتلام ہوگیا۔ (صبح کے وقت) اسے اس بات سے شرم محسوس ہوئی کہ وہ کپڑا اس حال میں (ام المومنین کے پاس) بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو۔ اس نے لحاف پانی میں ڈبو کر( گیلا کر کے) بھیج دیا (تاکہ سارا لحاف گیلا ہونے کی وجہ سے وہ نشان نظر نہ آئے۔ صرف متاثرہ حصہ دھونے پر اکتفا نہ کیا) سیدہ عائشہ ؓ نے فرمایا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ (اب یہ اتنا موٹا کپڑا کب خشک ہوگا؟) اگر وہ اسے انگلی سے کھرچ ڈالتا تو کافی ہوتا۔ میں بھی بعض اوقات رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے یہ چیز اپنی انگلی سے کھرچ دیا کرتی تھی۔